''دلائل الخیرات''، جس کا پورا نام دلائل الخیرات و شوائق الانوار فی ذکر الصلاۃ علی النبی المختار ہے، درود و سلام کی وہ عظیم اور بابرکت کتاب ہے جو صدیوں سے عشاقِ رسول ﷺ کے قلوب کو معطر کر رہی ہے۔ اس کے مصنف، شیخ محمد بن سلیمان جزولی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ، کا شمار دنیا کے جلیل القدر اولیاءِ کرام میں ہوتا ہے۔
اس کتاب کی تصنیف کا پس منظر نہایت پرکیف اور ایمان افروز ہے۔ ایک روز شیخ جزولی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وضو کے لیے کنویں پر تشریف لے گئے مگر وہاں نہ ڈول تھا نہ رسی۔ آپ کی پریشانی دیکھ کر ایک بلند مکان کی چھت سے ایک بچی نے پکارا اور آپ کا تعارف جاننے کے بعد مسکرا کر کنویں میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا۔ فوراً پانی جوش مارتا ہوا اوپر آ گیا۔ وضو کے بعد جب آپ نے اس بچی سے اس روحانی مقام کا راز دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ یہ سب کثرتِ درود شریف پڑھنے کی برکت ہے، یہاں تک کہ جنگل کے وحشی جانور بھی محبت سے لپٹ جاتے ہیں۔
یہ سن کر شیخ جزولی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عزم کیا کہ بارگاہِ رسالت میں پیش کرنے کے لیے درود و سلام پر مشتمل ایک کتاب ضرور تصنیف کریں گے۔ یوں ''دلائل الخیرات'' وجود میں آئی، اور اس کی خوشبو مشرق و مغرب میں پھیل گئی۔
حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مطابق، اس بچی کا معمول ایک مخصوص درود پاک صلوٰۃ البئر پڑھنا تھا، جو یہ ہے
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلٰوۃً دَآئِمَۃً مَّقْبُوْلَۃً تُؤَدِّیْ بِہَا عَنَّا حَقَّہُ الْعَظِیْمَیہ درود پاک، شیخ جزولی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ''دلائل الخیرات'' کے ساتویں حزب کے آخر میں درج فرمایا ہے۔ یہ کتاب آج بھی اہلِ محبت کے لیے فیض و برکت کا انمول خزانہ ہے۔