Zafar Khan

ظفر خان خود کو بنیادی طور پر شاعری کا قاری سمجھتے ہیں اور اسی شوق نے ان کو شاعری کرنے پر مجبور کردیا۔ ان کو یہ زعم ہے کہ وہ اردو کےکم و بیش تمام کلاسیکی شعرا کا مطالعہ کرچکےہیں اور یہ مصروفیت ان کو اب بھی خوش وقت اور شاد کام رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اردو غزل کے ارتقا کے تمام امکانات اسلاف کی شاعری میں موجود ہیں۔ ان کی کتاب، طلسمات، ان کا پہلا شعری مجموعہ ہےاور کسی قدر ان کے شاعری سے متعلق خیالات کا ترجمان بھی۔ ہو سکتا ہے ظفر کے یہ خیالات ان کی شاعری سمیت رد کر دینے کے لائق ہوں۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کےکلام میں آپ کو تازہ مضامین کی جھلک دکھائی دے ۔ آزمائش شرط ہے۔ طلسمات سے چند اشعار درجِ ذیل ہیں۔

ہے کوئی زخم شاید اس کی پیشانی کا تعویذ

مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے

کہیں خیال کے سرسبز کوہساروں پر

ہے اب بھی تیری نگاہوں کی آب جو کا طلسم

رواں ہیں موجِ گل کے ساتھ ہم بھی شاخ در شاخ

اور اس کے حسنِ ایجادی کا منظر دیکھتے ہیں

اک اشکِ نیلگوں میں سمائی ہے یہ زمیں

ہوتا ہے جس پہ گنبدِ افلاک کا گماں

کاسۂِ حرف بظاہر تھا مکمل لیکن

رہ گیا نقص کوئی چاک سے اٹھتے اٹھتے

مجھ کو مٹی سے اٹھایا تو ہواوں نے کہا

تجھ سے آتی ہے کسی باغِ ازل کی خوشبو

zkhan40@yahoo.com : رابطہ کے لیے

Popular items by Zafar Khan

View all offers